About Me

My photo
Fazal Hussain Awan colomnist Daily NAWAI WAQT awan368@yahoo.com 03334215368

Monday, February 7, 2011

سیاسی منزل

 پیر ، 07 فروری ، 2011
فضل حسین اعوان 
نئی نسل معیاری تعلیم سے آراستہ اور اعلی تربیت سے پرداختہ ہو تو ملک و قوم یقیناً ترقی و خوشحالی کی منزل اولٰی پر پہنچ سکتے ہیں۔ آج کے، عمر رسیدہ اشخاص بھی کبھی نئی نسل تھے۔ ان میں سے کئی کے آباء نے ان کی تعلیم و تربیت کی طرف توجہ نہیں دی، تبھی ان کے ہاتھوں اپنی اولاد کی عمدہ تربیت کا اہتمام نہیں ہو سکا۔ اس میں صرف ہر دور کے والدین کا ہی قصور نہیں، حکومتوں اور حکمرانوں کی غفلت اور کوتاہی بھی شامل ہے۔ عوام کو صحت اور تعلیم کی سہولتیں فراہم کرنا ایک فلاحی ریاست کی ذمہ داری ہے۔ پاکستان تو اسلامی جمہوریہ ہے یوں ریاست کی ذمہ داری دوچند ہو جاتی ہے۔ بدقسمتی یہ ہے کہ جن کے ہاتھوں میں بار بار قوم کی تقدیر آتی ہے وہ بھی اسی معاشرے کا حصہ ہیں جس میں تعلیم کو اہمیت نہیں دی جاتی۔ اکثر اقتدار کے ایوانوں میں آنے والے بھی چونکہ تعلیم و تربیت کے حوالے سے کورے ہیں تو ان سے معاشرے میں تعلیم یا کسی بھی شعبے میں انقلاب کی کیا توقع رکھی جا سکتی ہے۔ یہ کہنا بھی غلط ہو گا کہ معاشرہ کُل ہُم ان پڑھ، اُجڈ اور گنوار ہے۔ معاشرے میں اہل دانش، عالم فاضل، جینئس اور لیجنڈ بھی موجود ہیں لیکن تعداد میں آٹے میں نمک کے برابر۔ ان کو آگے آنے کا موقع دیا جاتا ہے نہ ہی ان میں خود بڑھ چڑھ کر اپنی خدمات پیش کرنے کی خواہش مچلتی ہے اگر کسی کو آگے لانے کی کوشش بھی کی جاتی ہے تو ہمارے ہاں مروجہ سیاسی سسٹم ان کی راہ میں رکاوٹ بن جاتا ہے۔ 
الیکشن ہوتے ہیں سیاسی پارٹیوں کو اپنا پروگرام یا منشور پیش کرنے سے زیادہ دلچسپی جیت کی اہلیت رکھنے والے امیدواروں سے ہوتی ہے۔ جیت کی پوزیشن میں بھی وہی ہوتا ہے جو ووٹر کے مسائل کو سمجھتا اور حل کرنے میں دن رات ایک کر دیتا ہے۔ اپنے حلقے کے لوگوں کو کورٹ کچہری میں مضبوط اور تھانے سے محفوظ رکھتا ہے۔ سڑکیں گلیاں نالیاں اس کی توجہ حاصل کرتی ہیں۔ بجلی، گیس اور پانی کی فراہمی بھی اسی کی ذمہ داری ہے۔ سکول کا قیام، اس کی اپ گریڈیشن، ڈسپنسری، ہسپتال کی تعمیر بھی سیاسی رہنما کی ذمہ ہے۔ عوامی نمائندے کا اصل کام قانون سازی ہے جس سے عام ووٹر کو عموماً کوئی غرض نہیں ہوتی۔ اسے اپنے کاموں اور مسائل کے حل کی ضرورت ہوتی ہے جو جائز ناجائز کام کرے وہ جیت کر ملک کو لوٹ کر کھا جائے یا اپنی تجوریاں بھرے ووٹر کی بلا سے۔ 
ہر حلقے سے صحیح، ایماندار، دیانتدار اور تعلیم یافتہ نمائندہ منتخب کیسے ہو سکتا ہے؟ ایک اسلامی فلاحی اور رفاعی ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ عوام کو ممکنہ حد تک تمام سہولیات پانی، بجلی، گیس، انصاف، صحت، تعلیم اور دیگر پہنچائے۔ لوگ کسی بھی مسئلے کیلئے کسی شخصیت کے محتاج نہ ہوں۔ جب بھی الیکشن ہوتے ہیں ایک ایک نشست کیلئے دو کے درمیان مقابلہ شاذ شاذ ہی ہوتا ہے، عموماً ڈیڑھ سے دو درجن تک امیدوار بھی مدمقابل ہوتے ہیں۔ ان میں سے ایک آدھ تو عوام اور قوم و ملک کا درد رکھنے والا ہو گا۔ اس کے سامنے آنے کا امکان تبھی ہے اگر مسائل سے مبرا ہو لوگ ووٹ بغیر کسی لالچ کے ڈالیں گے۔ یہی ہماری سیاسی منزل ہے۔


No comments:

Post a Comment