About Me

My photo
Fazal Hussain Awan colomnist Daily NAWAI WAQT awan368@yahoo.com 03334215368

Saturday, February 26, 2011

خون کا حساب

ۃ 26 فروری ، 2011
فضل حسین اعوان
ریمنڈ ڈیوس کے حوالے سے جرا ¿تمندانہ اور بے باکانہ موقف اپنانے پر آج کل شاہ محمود قریشی کا جاہ و جلال قابل دید ہے۔ عوامی پذیرائی پہ انکے زمین پر قدم نہیں ٹکتے، ہواﺅں میں اڑتے اور خوابوں کی دنیا میں بستے ہیں۔ استثنیٰ کے جبر کو قبر بنانے کیلئے پرعزم، ریمنڈ کو مجرم ثابت کرنے پر مائل، سزا دلانے کے قائل ہیں۔ ریمنڈ کے حوالے سے عوامی جذبات کے ترجمان اور قوم کی قیادت کے خواہاں لگتے ہیں۔ عوامی غیرت زندہ، ضمیر روشن ہیں۔ جن کا احساس مر چکا، ضمیر خوابیدہ، انہیں آئینہ دکھا رہے ہیں۔ قریشی صاحب جرا ¿ت کے نشان، قومی غیرت کے ترجمان بن کر دم بدم، قدم قدم آگے بڑھتے جا رہے ہیں۔ سیاست کو نئی جہت دئیے جا رہے ہیں، اپنے ساتھیوں کو پیچھے چھوڑے جا رہے ہیں۔ اپنے لئے نیا مقام نئی دنیا نیا زمانہ پیدا کررہے ہیں۔ بھٹکا ہوا آہو سوئے حرم جا رہا ہے۔ زرداری حکومت نے اٹھا کر وزارت سے باہر پھینکا تو میڈیا نے زمین پر گرنے سے قبل ہاتھوں پر اٹھایا، کئی طبقوں نے آنکھوں پر بٹھایا۔ میڈیا کے کچھ لوگ جو ان کو نااہل قرار دیتے تھے، ان پر اچانک وہ خوبیاں بھی عیاں ہوگئیں جو ان میں کبھی تھیں بھی کہ نہیں۔ حکومت کی مخالفت برائے مخالفت کے اصول پر عمل پیرا لوگ ”پھوک“ دئیے جا رہے ہیں۔ قریشی صاحب اس پھوک سے پھیل اور پھول رہے ہیں۔ نوازشریف کے متوالے سے جیالے بنے۔ اب بھٹو بننے نکلے ہیں۔ ایک طرف فرمایا لوگ کرسی لیکر میں اسے ٹھکرا کر خوش ہوں۔ دوسری طرف کرسی کی حسرت بھی موجود ”آخر میرا قصور کیا ہے، مجھے وزیر خارجہ کیوں نہیں بنایا گیا“۔ ریمنڈ ڈیوس کے استثنیٰ کیخلاف عَلم بلند کرکے خود اپنے بہت سے اعمال سے استثنیٰ حاصل نہیں کرسکتے۔ قوم کا حافظہ اتنا کمزور نہیں کہ اِدھر شاہ صاحب روشن ضمیری کی بات کریں، اُدھر سب کچھ بھول جائے۔ فرماتے ہیں بھارت کے ساتھ پانی کا معاملہ انہوں نے پہلی بار اٹھایا۔ گزشتہ سال انہوں نے ہی فرمایا تھا کہ پانی کی کمی کا ذمہ دار بھارت نہیں ہماری اپنی مس مینجمنٹ ہے۔ آپ نے کشن گنگا ڈیم اور دریائے توی پر بنائی جانیوالی جھیل کا کیس عالمی عدالت میں لے جانے سے قبل ہی خراب کردیا ہے۔ نیا فرمان ہے کہ ریمنڈ کا معاملہ مس ہینڈل کیا گیا ہے۔ مجبور کیا گیا تو ذمہ داروں کے نام بتاﺅنگا۔ اگر ضمیر جاگ گیا ہے تو دیر کس بات کی، انتظار کس چیز کا، بتائیں نام، صدر اور وزیراعظم کو تو بدستور مہربان قرار دیتے ہیں۔ باقی ان کی طرح سارے صدر اور وزیراعظم کے چیلے ہیں۔ یہ بھی سنئے ”کیری لوگر بل کا دفاع کیا تو مجھے امریکہ کا چمچہ کہا گیا“ اب قریشی صاحب فارغ ہیں، فوج کے بارے میں جو کچھ بل میں کہا گیا اسے ملاحظہ فرمائیں تو ثابت ہوجائیگا کہ اس بل کا ہر حامی امریکہ کا چمچہ ہے.... وہ تین سال وزیر خارجہ رہے۔ کشمیر پر انہوں نے کیا پیشرفت کی؟ کشمیر کے حوالے سے وزارت خارجہ اور کشمیر کمیٹی کشمیریوں کو نظرانداز کرنے والا بزدلوں اور مفادپرستوں کا ٹولہ بنی ہوئی ہے۔ بیان بازی سے آگے ایک قدم بھی نہیں بڑھایا۔ ملتانی پیر کہتے ہیں کہ امریکی سفیر کا مطالبہ تسلیم نہ کرنے پر میونخ میں ہلیری سے ملاقات منسوخ کی گئی۔ آپ ایک خودمختار، جمہوری اور ایٹمی ملک کے وزیر خارجہ تھے۔ امریکہ کی کسی باجگزار ریاست کے نہیں۔ ہلیری نے ایسا توہین آمیز سلوک کیا تو اسکا سفارتی سطح پر جواب دیا جانا چاہئے۔ موصوف اگلی ملاقات کی تمنائیں لئے اپنی حسرتوں پر آنسو بہا کے رہ گئے۔ ایک اور رنگ بازی ملاحظہ فرمائیے ”امریکہ اس روئیے کی توقع نہ رکھے جو مشرف سے کیا کرتا تھا“۔ امریکہ کی جنگ مشرف سے بھی زیادہ جوش و جذبے سے آج لڑی جا رہی ہے۔ ڈومور کا ہر تقاضا وزیر خارجہ اور وزارت خارجہ کے توسط سے حقیقت کا روپ دھارتا ہے جس کے کل تک آپ ذمہ دار تھے۔ ریمنڈ نے دو انسانوں کو خود قتل کیا، مزید دو کے قتل کی وجہ بنا۔ ایک انسان کے قتل کو انسانیت کا قتل قرار دیا گیا ہے۔ گویا ریمنڈ نے چار مرتبہ پوری انسانیت کو قتل کردیا۔ شاہ محمود قریشی عام پاکستانی کی طرح انسانیت کے قاتل کو کیفر کردار تک پہنچانا چاہتے ہیں۔ اچھی سوچ، اچھا عمل اور اقدام ہے۔ امریکی ڈرون حملوں میں بچوں اور خواتین سمیت اڑھائی ہزار افراد موت کی لکیر کے اُس پار چلے گئے۔ دہشت گردی کیخلاف جنگ میں 30 ہزار عام پاکستانی اور 3 ہزار فوجی جاں بحق ہوئے۔ بتائیے انسانیت کتنی ہزار بار قتل ہوئی۔ قریشی بھائی نے ریمنڈ ڈیوس کے حوالے سے جو موقف اختیار کیا، وزارت خارجہ کے منصب کے دوران ایسا ہی رویہ اختیار کرتے، امریکہ کو منہ توڑ جواب دیتے تو انسانیت کو کئی ہزار بار قتل ہونے سے ضرور بچا لیتے۔ تین سال میں دہشت گردی کیخلاف جنگ کے نام پر اور ڈرون حملوں میں جو لوگ مارے گئے اسکے ذمہ داروں میں پہلے تین کا نام لیا جائے تو وزیر خارجہ اس میں شامل سمجھے جاتے ہیں۔ انکو بے گناہوں کے خون کا حساب تو دینا ہوگا۔ اس جہاں میں اور اس جہاں میں بھی۔


No comments:

Post a Comment