About Me

My photo
Fazal Hussain Awan colomnist Daily NAWAI WAQT awan368@yahoo.com 03334215368

Thursday, April 25, 2013

صدر‘ گورنرز استعفیٰ کیوں دیں؟


صدر‘ گورنرز استعفیٰ کیوں دیں؟

کالم نگار  |  فضل حسین اعوان
07 فروری 2013 0
وہ انتخابات جن کے انعقاد پرہنوز غیر یقینی کا غبار چھایا ہوا ہے‘ ان میں کون سی پارٹی اپنی کارکردگی کے باعث پستی کی بستی میںگُم ہو جائے گی یہ سِکسٹی ملین ڈالر کا سوال نہیں رہا۔اُ س پارٹی کی یہ تمنائے ناتمام ہے کہ الیکشن کا انعقاد ممکن نہ رہے ۔اول تو آئین میں دی گئی گنجائش کے مطابق اسمبلی کی مدت ایک سال بڑھا دی جائے۔ اس دوران مزید پانچ سال کے لئے اگست میں موجودہ صدر کو اسی اسمبلی اور پارلیمنٹ سے منتخب کرا لیا جائے۔ جس طرح جنرل مشرف صاحب کو ق لیگ کی حکومت نے کیا تھا۔ کیا وہ پانچ سال پورے کر پائے؟ بہرحال خواہش تو خواہش ہوتی جس کو ہر کوئی اپنے خوابوں کی تعبیر سمجھ کر اسے عمل کے سانچے میں ڈھالنے کی پوری کوشش کرتا ہے۔ مرکز والوں کی حسرت ہے کہ وہ نہ ہوں تو کوئی بھی کیوں ہو۔ تین سال کے نگران آئیں یا بھاری بوٹوں والے‘ جو بھی ہو انتخابات کے جھنجھٹ کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ اپنی باری لے لی‘ جیبیں بھر لیں۔ جائیدادیں بنا لیں جو سات پشتوں کے لئے کافی ہیں۔ دوسری طرف ن لیگ کو اپنی کارکردگی پر تو مان نہیں ،اس کا اپنے حریفوں کی غلطیوں پر دھیان ہے۔ پانچ سال تک جمہوریت ایسے ہاتھوں میں رہی کہ عوام کا جمہوریت پر سے اعتماد متزلزل ہو گیا حالانکہ جمہوریت کا اس میں کیا قصور بقول وزیراعلیٰ شہباز شریف ”مسائل کی ذمہ دار جمہوریت نہیں‘ اسے چلانے والا کرپٹ ٹولہ ہے“۔ اس ٹولے میں ن لیگ کی ٹولی بھی شامل ہے ،جس نے جمہوریت کو اس طرح استعمال کرنے والوں کا ہاتھ نہیں روکا، خود بھی اتنے پارسا نہیں،یونیفکیشن کے گھوڑے کچے دھاگے سے نہیں نوٹوں کی پائل سے بندھے ہیں ۔ ن لیگ ہی نہیں دیگر کئی پارٹیوں اور حلقوں کو بھی یقین ہے کہ الیکشن ہوئے تو ن لیگ ہی کے سر پر ہی ہما بیٹھے گا۔ اس لئے انتخابات کے انعقاد کا جس تیزی سے موقع قریب آرہا ہے اس سے زیادہ تیزی کے ساتھ لاوارث پارٹیاں ن لیگ کے گرد بھنبھنانے لگی ہیں۔ ان میں ق لیگ کا ہم خیال گروپ اور جماعت اسلامی کچھ زیادہ ہی سرگرداں ہیں جو بغیر اتحاد کے الیکشن لڑ کر پورے ملک سے ایک بھی سیٹ نہیں جیت سکتیں۔ ن لیگ کاسہ گدائی میں تھوک بھی دے تو چار چار، پانچ پانچ سیٹیں خیرات میں مل جائیں گی ، ایک آدھ سینیٹری بھی ۔ جب ایک آزاد پارٹی بنائی ہے تو کسی کے ساتھ اتحاد کی ضرورت کیوں؟ پورے ملک میں انقلاب لانے کی تاب نہیں تو کسی دوسری پارٹی میں ضم ہو جائیں۔ الیکشن کمشن کے پاس رجسٹرڈ سیاسی پارٹیوں کی تعداد ڈیڑھ سو سے تجاوز کر چکی ہے۔ انتخابات سے قبل چھوٹی موٹی پارٹیاں‘ بڑی پارٹیوں کی آغوش میں بیٹھ جانے کے لئے بے تاب ہوتی ہیں۔ چند سیٹیں مل جائیں تو اس مقام پر پہنچانے والی پارٹی کو اگلی مدت تک بلیک میل کرتی رہتی ہیں۔ اب ایک بار پھر اتحادوں کی وبا پھیلنے والی ہے۔ اس مرض سے ایک ہی صورت نجات پائی جا سکتی ہے کہ سیٹ ایڈجسٹمنٹ کرنے والی پارٹیوں کو الیکشن کمشن ایک یہ نشان الاٹ کر دے۔ پھر اسمبلی میں جاکر بلیک میل کرنے والوں سے اٹھارویں ترمیم خود نمٹ لے گی۔
عوامی وعمومی رائے یہ ہے کہ مشرف کے دور سے لال مسجد آپریشن اور پاکستان کو امریکہ کے پاس گروی رکھنے کے اقدامات کو نکال دیا جائے تو وہ معیشت کو مضبوطی کے حوالے سے بہترین دور تھا۔ مشرف آئے تو ڈالر 62 اور گئے تو بھی 62 روپے کا تھا۔ پٹرول کی قیمت 54 اور 28 روپے نمبر کے درمیان اوپر نیچے ہوتی رہی۔ پرویز الٰہی کے اقوال سے مشرف کو وردی سمیت دس بار منتخب کرانے کی تکرار نکال دی جائے تو ان کی وزارت اعلیٰ کا دور بھی مثالی تھا۔ پیپلز پارٹی کے کرتا دھرتاﺅں کی روح تک اتری کرپشن کا عنصر نکال دیا جائے تو دوبارہ کھوئی ہوئی مقبولیت اور احترام حاصل کر سکتی ہے۔ ن لیگ کی قیادت کے دماغ سے تکبر اور گردن سے اکڑنکل جائے تو اسے مقبولیت کے لئے جعلی سروے کرانے کی ضرورت نہ پڑے ۔
کرپشن میں نام پیدا کرنے کے باعث پانچ سال تک اتحادی رہنے والے پیپلز پارٹی کی کشتی سے چھلانگیں لگا رہے ہیں اور تکبر کا شکوہ کرنے والے بھی ٹکٹ کے حصول کے لئے عمرہ جاتی کو اپنی درگاہ سمجھ کر وہاں کچے دھاگے سے بندھے ننگے پا¶ں حاضری دینے کو سعادت باور کراتے ہیں۔ یہ وہی ہیں جو میاں نواز شریف کے جدہ کی فلائٹ میں بیٹھتے ہی مشرف کے جہاز میں سوار ہو گئے تھے ۔اب وہ میاں محمد نواز شریف اور شہباز شریف کے جانثار بنے ہوئے ہیں۔ اگر یہ واقعی جانباز ہیں تو ان کو ٹکٹ نہ دے کر آزمائیں اور ٹکٹ پارٹی کے خدمت گزاروں کو دیں۔ جعلی ڈگریوں والے آج نہیں تو کل پکڑے جائیں گے۔ اُس وقت کی بدنامی سے بہتر ہے کہ جعلی ڈگری ہولڈرز کی فلٹرنگ کر دی جائے۔
ڈاکٹر طاہر القادری کے دھرنے کو دشنام دینے والوں نے خود اسلام آباد میں چودھری نثار کی سربراہی میں دھرنی دی‘ دھرنی کیا ڈوب کے مرنی تھی جس میں 13جماعتوں نے حصہ لیا جن کے درسے اقتدار کی خیرات ملتی ہے، ان کے ہاں 13 کا ہندسہ منحوس ہے۔ چلئے پیپلز پارٹی کے مخالفین 36 سال بعد 9 (پی این اے) سے تیرہ ہو گئے جو ن لیگ کو مشکل میں دیکھ کر نو دوگیارہ ہونے میں دیر نہیں کریں گے۔ طاہر القادری کے پاس اپنی بات کرنے، اس کو دھماکہ خیز بنانے اور طوفان اٹھانے کا کوئی پلیٹ فارم نہیں تھا تو انہوں نے لانگ مارچ اور دھرنے کا آپشن اختیار کیا۔ دھرنی والوں کے پاس قومی اسمبلی اور سینٹ ہے ان کو احتجاج، دھرنے اور مارچ کی ضرورت کیوں پیش آئی؟ اور جو مطالبات کئے گئے وہ کون پورے کرے گا؟ ہم نے جمہوریت جن سے سیکھی وہاں الیکشن کرانے کے لئے نگران حکومتیں نہیں بنتیں پاکستان میں تو نگران آکر الیکشن کرائیں گے۔ ہمارے ہاں نگرانوں کا انتخاب جمہوریت کے لئے نزاع کا عالم بن گیا ہے۔ عجب قسم کے مطالبات اور بیانات سامنے آرہے ہیں۔ سونامی خان کے لئے زرداری صاحب کی ایوان صدر میں موجودگی ناقابل برداشت ہے۔ زرداری صاحب کی ایوان صدر میں اپنی آئینی مدت کے اختتام تک موجودگی کی وکالت میاں محمد نواز شریف فرما رہے ہیں، جنہوں نے باقاعدہ گو زرداری گو کی مہم چلائی اور جس دھرنی سے چودھری نثار علی خان کھسک گئے اس میں بھی شرکاءگو زرداری گو کے نعرے لگاتے رہے۔
 اب ن لیگ کو زرداری صاحب کے انتخابات کے دوران صدر رہنے پر تو اعتراض نہیں البتہ اس کو زرداری صاحب کے اور ان سے بھی قبل کے نامزد کردہ گورنروں کی موجودگی پر تحفظات ضرور ہیں۔ مرکز کے تعینات کردہ افسروں کی دیانت پر شبہ ہے۔ یہی کام سب سے بڑے صوبے میں خود بھی کیا ہے۔ جن لوگوں کو صدر کی موجودگی میں الیکشن پسند نہیں۔ جن کے گورنروں اور افسروں کے تقرر پر تحفظات ہیں وہ سڑکوں پر آکر چھتوں پر چڑھ کر دہائی نہ دیں آئین میں ترمیم کرنے کی کوشش کریں۔ جمہوریت اگر ڈی ریل ہوئی‘ انتخابات کی منزل کھو ٹی ہوئی تو اس میں ڈاکٹر طاہر القادری اور اپنی باری لے کر جمہوریت کے ثمرات سے سیر ہونے والوں کی طرح وہ بھی اتنے ہی ذمہ دار ہوں گے جو یہ کہتے پھرتے ہیں الیکشن سے قبل فلاں بھی جائے، فلاں بھی جائے۔ اب بتائیے صدر گورنروں کو گھر کیوں بھجوائیں گے صدر کو آخر کون استعفیٰ دینے کو کہے گا اگر صدر کو کوئی استعفیٰ دینے پر مجبور کرے گا تو الیکشن اس کی مجبوری نہیں ہوں گے۔ اس لئے یہ استعفیٰ دے وہ استعفیٰ دے کی ڈفلی بجانے والے اپنی راگنی کسی اور وقت کے بچا کے رکھ لیں، الیکشن ہونے دیں۔ جمہوریت جیسی بھی ہے اسے چلنے دیں۔ زرداری صاحب اور ان کے گورنر اسی جمہوریت کی عنایت اور عطا ہیں جس سے ن لیگ، عمران لیگ اور دیگر کو والہانہ عقیدت ہے۔ اگر مشرف صاحب بااختیار صدر اور مرضی کی نگران حکومت بنوانے کے باوجود اپنی پروردہ ق لیگ کو جتوانے سے قاصر رہے تو کوئی اور کس باغ کی مولی ہے جو انتخابات پر اثرانداز ہو کر کسی پارٹی کی جھولی میں جیت کی نعمت ڈال سکے۔ باقی کسی بھی افسر کے ممنون ہونے اور بے ضمیر ہونے میں بڑا فرق ہے کوئی بھی ملازم زرخرید نہیں ہوتا۔ ایسا ہوتا تو ضیاءالحق اپنے محسن کا تخت الٹا کر ان کو تختے پر اور پرویز مشرف اپنے مربی میاں محمد نواز شریف کو وزیراعظم ہا¶س سے ہتھکڑیاں لگا کر جیل اور بعدازاں جدہ نہ بھجواتے۔ استعفوں کا مطالبہ کرنے والے سسٹم پر اعتماد ووٹر پر اعتبار کریں اور الیکشن کے دن خود جاگیں اور کارکنوں کو بھی آنکھیں کھلی رکھنے کی تلقین کریں۔ 

No comments:

Post a Comment