About Me

My photo
Fazal Hussain Awan colomnist Daily NAWAI WAQT awan368@yahoo.com 03334215368

Sunday, December 5, 2010

تحفظ ناموس رسالت قانون میں تبدیلی و ترمیم ناممکن


 تحفظ ناموس رسالت قانون میں تبدیلی و ترمیم ناممکن
فضل حسین اعوان ـ 10-12-4
اٹانوالی کی آسیہ کا معاملہ انسانی حقوق کا ہوتا تو اسلام سے بڑا کوئی مذہب انسانی حقوق کا علمبردار نہیں۔ دین حق کے پیروکار اور انسانیت کے محسن حضور علیہ السلام کے نام لیوا آسیہ کی مدد کو پہنچ جاتے۔ ایک خاتون پر ظلم تو دور کی بات اس کی طرف اٹھنے والی انگلی بھی حضور کے امیتوں کےلئے ناقابل برداشت ہے۔ یہاں تو ایک خاتون کی جان دا ¶ پر لگی ہوئی ہے۔ اب کچھ لوگ آسیہ کو پھانسی کے پھندے سے اتار لانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ کچھ تو اس قانون کا ہی خاتمہ چاہتے ہیں جس کے تحت آسیہ کو سزائے موت کا حکم سنایا گیا۔ کیا یہ لوگ جذبہ صادق کے تحت ایسا کر رہے ہیں۔ ان کو انسانی حقوق نے ایسا کرنے پر آمادہ کیا یا یہ دین میں جدت پسندی کو درلانے کی خواہش رکھتے ہیں۔ یہ تو طے ہے دین اسلام میں رہنا ہے تو خود کو اس کے مطابق ڈھالنا ہو گا۔ دین کو اپنی خواہشات کے مطابق قطعاً قطعاً نہیں بدلا جا سکتا۔ اگر کسی کے اندر یہ احساس جاگزیں ہو گیا ہے کہ اسے مسلمان گھرانے کے اندر پیدا نہیں ہونا چاہئے تھا تو وہ اس کا ازالہ اور مداوا آج بھی کر سکتا ہے۔ دین اسلام چھوڑ جائے۔ دین چھوڑنے کے بعد معمولی سی قیمت ادا کرنا پڑتی ہے۔ اپنے سر کی صورت میں۔ آئیں میدان میں اور اپنے باطن کا کھل کر اظہار فرما دیں۔
آسیہ کا معاملہ صرف پانی تک محدود نہیں۔ پانی کی بات ہوتی ہے تو ہم مسلمانوں کے دل پسیج جاتے ہیں ہمیں واقعہ کربلا یاد آجاتا ہے۔ کوئی مسلمان کسی دوسرے انسان کو پیاسا نہیں دیکھ سکتا ہے۔ آسیہ کو کسی نے پانی پینے سے منع نہیں کیا۔ وہ مسلمان خواتین کے ساتھ کھیت میں فالسہ توڑ رہی تھی اس نے مسلمان خواتین کو پانی پلانا چاہا تو انکار پر آگ بگولا ہو گئی۔ پانی نہ پینے کی وجہ آسیہ کا عیسائی اور دیگر خواتین کا مسلمان ہونا تھا۔ آسیہ نے اس موقع پر جو کچھ کہا وہ تھانہ صدر ننکانہ صاحب میں درج ہونے والی ایف آئی آر میں موجود ہے۔ یہ ایف آئی آر میرے سامنے ہے۔ آسیہ نے جو کچھ کہا وہ لکھنے سے قلم لرزاں ہے۔ اس نے حضور علیہ السلام کی بیماری انتقال اور حضرت خدیجہ سے نکاح کے بارے میں انتہائی گستاخانہ اور توہین آمیز ریمارکس دئیے۔ ملعونہ نے شان رسالت میں جو کچھ کہا میں نے زندگی میں ایسا پہلی بار پڑھا یا سنا ہے۔ جو مسلمان ہونے کے باوجود آسیہ کی وکالت کرتے ہیں۔ انہیں معلوم ہے کہ آسیہ نے کیا کہا؟ اگر معلوم نہیں تو ایف آئی آر منگوا کر پڑھ لیں۔ محترمہ طیبہ ضیا بھی! 
معززین اور ایس پی شیخوپورہ سید محمد امین کی موجودگی میں آسیہ نے اپنے جرم کا اعتراف کرتے ہوئے معافی مانگی 19جون 2009ءکو آسیہ پر مقدمہ درج ہوا اس کے تقریباً ڈیڑھ سال بعد نوید اقبال ایڈیشنل سیشن جج ننکانہ صاحب نے 11 نومبر 2010ءکو ملزمہ کو سزائے موت کا حکم سنایا۔ گورنر صاحب جیل میں جا کر آسیہ سے ملے اور کہا کہ ان کی تحقیق کے مطابق آسیہ بے گناہ ہے۔ جس مقدمے کے فیصلے میں ڈیڑھ سال لگ گیا گورنر نے ایک دن کی تحقیق سے اسے غلط قرار دیکر اپنے فیصلے کو مبنی برحقیقت قرار دے دیا کیوں نہ فوری اور سستے انصاف کیلئے مقدمات گورنر صاحب کو ریفر کر دئیے جایا کریں۔ چیف جسٹس سپریم کورٹ اور وکلاءاس پر غور فرمائیں۔ فوری سستے انصاف کے خواہش مند مدعی براہ راست گورنر صاحب سے رجوع کر لیا کریں۔
گورنر صاحب نے تحفظ ناموس رسالت قانون کو کالا قانون قرار دیا ان کی دیکھا دیکھی مغربی ممالک کی پروردہ این جی اوز نے بھی تحفظ ناموس رسالت قانون کے خاتمے کا مطالبہ کر دیا۔ کئی ”پھپھے کٹنی“ قسم کی عورتوں نے اپنے جیسی کے توسط سے تحفظ ناموس رسالت قانون میں تبدیلی کا بل بھی قومی اسمبلی میں جمع کرا دیا۔ پاکستان میں اگر کسی بات پر اتفاق ہے تو عظمت ناموس رسالت پر۔ ”توہین رسالت کی سزا موت ہے“ اس سے کسی مسلمان کو اختلاف نہیں۔ اس قانون کا خاتمہ تو کجا اس میں تبدیلی پر بات سننے پر بھی مسلمان تیار نہیں یہ پارلیمنٹ میں بھی لے جایا گیا تو حشر این آر او جیسے بل سے بھی بھیانک ہو گا۔ ویسے بھی بابر اعوان نے کہہ دیا ہے کہ ان کے ہوتے ہوئے تحفظ ناموس رسالت قانون میں تبدیلی و ترمیم نہیں ہو سکتی۔ ہمیں بابر اعوان کی صلاحیتوں پر مکمل بھروسا ہے۔ انہوں نے تو سوئس کیسز اوپن نہیں ہونے دئیے ان کیسز میں قوم تو کیا خود ان کا اپنا ضمیر بھی ان کے ساتھ نہیں۔ تحفظ ناموس رسالت پر تو پوری قوم چند شطونگڑوں اور شطونگڑیوں کے سوا ان کے ساتھ ہے اور پھر پارلیمنٹ میں بھی محبان رسول بیٹھے ہیں۔ قوم فکر نہ کرے۔ ناموس رسالت قانون ختم ہو گا نہ اس میں تبدیلی ہو گی۔ بالفرض ایسا ہو گیا تو ایسا کرنے والے غازی علم دینوں کی غیرت کو خود آواز دیں گے۔

No comments:

Post a Comment