About Me

My photo
Fazal Hussain Awan colomnist Daily NAWAI WAQT awan368@yahoo.com 03334215368

Friday, December 10, 2010

لوٹ مار آخر کب؟

جمعۃالمبارک ، 10 دسمبر ، 2010
فضل حسین اعوان ـ 
ایک طرف بھوک افلاس اور فاقوں کے باعث کسی کا جنازہ اٹھتا ہے تو دوسری طرف لوٹ مار کے پیسے سے کسی کا محل تعمیر ہوتا۔ گزشتہ ادوار میں بھی لوٹ مار اور کرپشن ہوتی رہی لیکن بے نقاب کہیں بعد میں ہوتی تھی۔ آجکل کھلے عام اور سرعام ہو رہی ہے۔ کوئی معاملہ خفیہ نہیں۔ اعتراف اور اقرار بھی ہوتا ہے۔ ڈھٹائی ایسی کہ کسی ذمہ دار کی طرف سے شرمندگی کا اظہار نہ استعفٰی دینے کی نوبت۔ وزارت حج کے کئی بڑے سپریم کورٹ میں جا کر اعتراف گناہ کر آئے۔ اس کے باوجود گردن جھکی نہ نظریں نیچے ہوئیں۔ دستارِ داغدار سر کا تاج ہے قباء تار تار کو بدستور خلعتِ فاخرہ گردانا اور جانا جا رہا ہے۔ حکومتی پارٹی کے مخالفین کا نہیں، سپریم کورٹ کا کہنا ہے کہ ایف اے فیل کو او جی ڈی سی کا سربراہ لگا دیا گیا تھا۔ کوئی دن ایسا نہیں جاتا جب کوئی مالی سکینڈل سامنے اور کوئی بے ایمان اور بدعنوان بے نقاب نہ ہوتا ہو۔ چینی کی سرکاری ریٹ پر فراہمی میں حکومت بے بسی کی مکمل تصویر بن چکی ہے۔ ’’کوئی آئین اور قانون سے بالاتر نہیں‘‘ یہ کہاوت اپنی افادیت اسی طرح کھو چکی جس طرح ’’بُری سے بُری جمہوریت بھی اچھی آمریت سے بہتر ہوتی 
ہے‘‘ آئین اور قانون سے آج بہت سے لوگ بالاتر ہیں۔ جن کو سب جانتے ہیں جو جمہوریت آج رائج ہے اس سے بری جمہوریت ہو سکتی ہے نہ آمریت۔ ہر شہری پریشان ہے۔ اسلامی و فلاحی جمہوریہ پاکستان میں عوام کو تعلیم، صحت، انصاف روزگار، بجلی، پانی اور گیس میں سے کون سی سہولت حاصل ہے؟ جہاں عوام کی حالت دگرگوں ہے وہیں عوامی نمائندوں کے وارے نیارے ہیں لوٹ مار نہ بھی کریں پھر بھی سال میں ایک پارلیمنٹیرین سوا تین کروڑ میں پڑتا ہے۔ یہ اسی پر اکتفا کریں تو بھی ملک و قوم کے لئے کوئی مسئلہ نہیں۔ گھپلوں سے دور کرپشن سے گریز اور کمشن سے پرہیز کریں تو قوم خوشحال ہو کر زوال سے ضرور بچ جائے گی۔ اربوں کھربوں کی کرپشن نے ملکی معیشت کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے۔ 
لوگ مشرف کی پالیسیوں سے تنگ تھے اس لئے پیپلز پارٹی پر اعتماد کیا۔ آج صورت حال آسمان سے گرا کھجور میں اٹکا جیسی ہو گئی ہے۔ وزارت حج کے گھپلوں پر لوگ طیش میں تھے۔ رینٹل پاور والوں نے مشتعل کر دیا۔ جب سے رینٹل پاور پراجیکٹس کا شہرہ ہے خیر کی خبر کبھی نہیں آئی۔ کرائے کا بجلی گھر نصب ہوتا ہے، چلتا ہے، رقم ادا کر دی جاتی ہے۔ چند دن بعد بیٹھ جاتا ہے۔ اب کرپشن کمشن اور بے ایمانی کی نئی داستان پوری سچائی اور صداقت کے ساتھ سامنے آئی ہے۔ پاور پلانٹ کی تنصیب کے نام پر پہلے گدو منصوبے کے حوالے سے رقم لی گئی پھر نوڈیرو میں بھی اسی پلانٹ کی تنصیب پر 14 فیصد ایڈوانس لیا گیا جو دو ارب روپے بنتا ہے۔ پرانے بجلی گھر کی تنصیب کا صرف 14 فیصد 2 ارب روپے! پوری رقم کتنی ہو گی! سپریم کورٹ نے نوٹس لیتے ہوئے کمپنی کو فوری طور پر صرف ایک دن میں ایڈوانس لی ہوئی رقم بمعہ سود جمع کرانے کا حکم دیا جس پر کمپنی نے عملدرآمد کرتے ہوئے رقم جمع کرا دی۔ یہ غیر ملکی کمپنی تھی، اسی لئے عدالتی حکم کا احترام کیا۔ شاید کمپنی کو اپنے پاکستانی سرپرستوں سے مشورہ کرنے کا موقع نہ ملا ہو۔ 
چین نے سستی ترین بجلی کی پیشکش کی۔ تین سو روپے بل فی گھر۔ ایران سوا دو روپے فی یونٹ دینے پر تیار۔ ہمارے حکمرانوں نے یہ پیشکشیں رد کر دیں۔ کالاباغ ڈیم سے 60 پیسے فی یونٹ بجلی حاصل ہو سکتی ہے، یہ منصوبہ ختم کر دیا گیا، کیوں؟ اس لئے کہ 2 سو ارب کے پرانے، کھٹارہ اور بوڑھے بجلی گھر کرائے پر لیکر دھرتی ماں کے قرض کا فرض ادا کرنا تھا۔ ثابت شدہ کرپشن کی انتہا ہو گئی ایسا کسی مہذب معاشرے میں ہوتا تو حکمران شرم اور غیرت سے ڈوب نہ بھی مرتے تو کم از کم استعفٰی دیکر گھروں کو چلے جاتے۔ ہمارے ہاں دونوں کا فقدان ہے۔ لوٹ مار آخر کب تک۔ بُرے کاموں کا بُرا نتیجہ۔ ببول بیج کر مہکتے گلابوں کے اگنے کی توقع رکھنا احمقانہ پن ہے۔ عدالتوں سے فیصلوں کے عملدرآمد کے آگے لمبے عرصے تک بند نہیں باندھا جا سکتا۔ عدلیہ فعال ہے۔ اس کے فیصلوں پر عملدرآمد کا سلسلہ شروع ہوا تو رکے گا نہیں۔ پھر بوڑھے کرائے کے بجلی گھر ہونگے نہ ان کو لانے، لگانے اور کمشن کھانے والے ہونگے۔


No comments:

Post a Comment