About Me

My photo
Fazal Hussain Awan colomnist Daily NAWAI WAQT awan368@yahoo.com 03334215368

Tuesday, October 26, 2010

مسلم لیگوں کا اتحاد ۔ دل بڑا کرو بڑے میاں جی


 منگل ، 26 اکتوبر ، 2010
فضل حسین اعوان ـ
ٹوٹی پھوٹی اور اجڑی پجڑی مسلم لیگوں مائنس مشرف لیگکو ایک پلیٹ فارم پر لانے کی کاوش پیر پگاڑہ کا عظیم کارنامہ اور پاکستان پر احسان ہے۔ نظریاتی لوگوں کی بے پایاں خواہش‘ تمنا اور آرزو ہے کہ اقبال اور قائد کی مسلم لیگ پھر پہلے سے بانکپن‘ اتحاد اور مضبوطی کے ساتھ قوم کے سامنے آئے۔ پیر صاحب کی سرپرستی میں مسلم لیگ ق سمیت کئی دھڑے متحد ہو گئے۔ مسلم لیگوں کے حامی محب وطن لوگوں کی نظریں اب مسلم لیگ ن کی طرف لگی ہوئی ہیں جو آج بلاشبہ پیپلز پارٹی کے بعد ملک کی دوسری بڑی پارٹی ہے۔ 2008ءکے الیکشن کے نتائج کے پیش نظر اس پر پنجاب اور پنجابیوں کی پارٹی ہونے کی چھاپ لگ چکی ہے۔ انہیں انتخابات کے دھڑوں میں بٹی مسلم لیگوں نے مجموعی طور پر 45 فیصد ووٹ حاصل کئے۔ مسلم لیگوں کے باہم دست و گریباں ہونے کا فائدہ پیپلز پارٹی نے اٹھایا جس نے صرف 35 فیصد ووٹ حاصل کرکے حکومت بنا لی۔ قومی اسمبلی اور سینٹ میں آج بھی پیپلز پارٹی کے مقابلے میں مسلم لیگی ممبران کی تعداد زیادہ ہے۔ 2008ءکے انتخابات کے بعد چودھری شجاعت حسین نے مسلم لیگوں کے اتحاد کی بات کی تو بڑے میاں صاحب کی انا آڑے آگئی۔ میاں صاحب بدستور انا کے بھنور میں پھنسے ہیں۔ لندن سے واپسی پر پہلی بات یہ کی کہ چودھری برادران اور شیخ رشید کی موجودگی میں لیگی دھڑوں کا اتحاد ممکن نہیں۔ مسلم لیگ ن صرف چودھری نثار‘ خواجہ سعد رفیق‘ خواجہ آصف اور پرویز رشید کی ہی پارٹی نہیں اس میں شہباز شریف‘ ذوالفقار کھوسہ اور راجہ ظفر الحق جیسے لوگ بھی شامل ہیں۔ ان کی رائے اور کارکنوں کی خواہش کو مدنظر رکھنا بھی پارٹی قائد کا فرض ہے۔ مسلم لیگوں کا اتحاد بلاشبہ قوم و ملک کے مفاد میں ہونے کے ساتھ ساتھ اتحاد میں شامل ہر مسلم لیگ کے مفاد میں بھی ہے مسلم لیگوں میں انتشار اور خلفشار کا نقصان تو سب پر واضح ہے۔ اس کا فائدہ جس کو ہو سکتا ہے وہ اپنی پٹاری میں ہر قسم کی پیشکش لئے ایوانوں سے دیوانوں کی تلاش میں نکل پڑے ہیں۔ مسلم لیگ ن میں اگر نفاق کے پروردہ موجود ہیں تو ق لیگ کے ہاکس کو پارٹی کے پیر پگاڑا کی قیادت میں متحد ہونے کے بعد جھرجھری آگئی ہے۔ چودھری شجاعت پیر صاحب کو اتحاد اور انضمام کی زبان دیکر واپس آئے تو چھوٹے چودھری صاحب نے پارلیمانی پارٹی کا اجلاس بلا لیا یہاں چند پارلیمنٹیرینز کے منہ سے شجاعت کے سامنے اتحاد اور انضمام کے خلاف باتیں کہلوائی گئیں۔ در و دیوار کے ساتھ لگے کانوں نے سب اوپر پہنچا دیا۔ لیکن چودھری شجاعت کو کچھ شجاعت سے کام لیکر پرویز کا حکم دے دینا چاہئے تھا اب بھی دیر نہیں ہوئی۔ بابر اعوان جو عدلیہ کا برج الٹانے کیلئے سرگرم تھے۔ بار ایسوسی ایشنوں میں نوٹوں سے بھرے بریف کیس لئے گھوم رہے تھے۔ مسلم لیگوں کے مجوزہ اتحاد کے باعث مستقبل میں پیپلز پارٹی کی سیاست کو ممکنہ ”ٹکے ٹوکری“ ہوتے دیکھ کر پرویز الٰہی کی بارگاہ میں حاضر ہو گئے۔ پرویز الٰہی مشرف کو دس باروردی میں الیکٹ کرانے کی خواہش کا اس لئے اظہار کرتے رہے کہ ان کو وزیراعظم اور صاحبزادے کو وزیراعلیٰ بننے کا موقع مل جائے۔ ذرائع کے مطابق بابر اعوان نے چھوٹے چودھری کو بڑے سے بڑا وزیر یعنی ڈپٹی وزیراعظم بنانے کی پیشکش کی ہے۔ وہ اپنے کزن ایک دن کے سلطان چودھری کی طرح وزارت عظمیٰ کا جھوٹا لینا چاہتے ہیں اب ان کی نظر میں وہ بات بھی اہم نہیں کہ چودھری شجاعت کی پیر صاحب کو دی گئی زبان کا کیا ہو گا؟ چودھری برادران تو پیپلز پارٹی کو چودھری ظہور الٰہی کا قاتل سمجھتے ہےں۔ کیا وہ صرف چودھری شجاعت کے والد تھے؟ پرویز الٰہی نے صرف ان کو اپنا چچا سمجھا کہ ان کے قاتلوں سے ہاتھ ملانے پر تیار ہو گئے۔ بشرطیکہ کوئی بڑی وزارت مل جائے ابھی کل کی بات ہے محترمہ بے نظیر بھٹو کے قتل پر زرداری صاحب نے ق لیگ کو قاتل لیگ کہا تھا۔ ق لیگ والے اگر مسلم لیگوں کے اتحاد کی کوشش کرتے تو پوری قوم اس کی تحسین کرتی۔ اب جو کچھ وہ کرنے جا رہے ہیں اس سے ق لیگ کے بھی دو دھڑے بن جائیں گے۔ اس سے فائدہ کس کو ہو گا۔؟
مسلم لیگیں اگر متحد ہوتی ہیں تو اس سے جمہوریت مضبوط ہو گی۔ ادارے مضبوط ہوں گے ملک دو پارٹی سسٹم کی طرف جائے گا یہی جمہوریت کا اصل‘ حسن اور خوبی ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ بڑے میاں صاحب اور چھوٹے چودھری صاحب کو لتھی چڑھی کی کوئی پروا نہیں جمہوریت دشمن قوتیں مسلم لیگوں میں نفاق پیدا کرکے اس کے گروپوں کو اپنے مقاصد کےلئے استعمال کریں گی۔ اس سے پرویز الٰہی تو شاید ڈپٹی وزیراعظم بن جائیں گے اگر ایسا ہوا تو عطا مانیکا کے زیر اثر یونیفکیشن گروپ پرویز الٰہی کے گرد بھنبھنائے گا۔ اس سے نواز شریف اور ان کے سر پر جادو بن کر چڑھنے والوں کو تو کوئی نقصان نہیں ہو گا پنجاب سے شہباز شریف کی حکومت جاتی رہے گی۔ جس سے شریف برادران کی سیاست رائیونڈ اور ماڈل ٹاون کے درمیان لڑھکتی رہے گی۔ 
مسلم لیگی قائدین وقتی مفادات کے چنگل سے نکلیں۔ اپنی اناوں کو تیاگ دیں۔ مسلم لیگ کو اقبال اور قائد کی مسلم لیگ بنانے کیلئے حب الوطنی اور ایثار کا مظاہرہ کریں۔ جمہوریت کی مضبوطی‘ پاکستان کو قائد کے فرمودات اور اقبال کے افکار کے مطابق چلانے کیلئے تمام مسلم لیگوں کا انضمام ناگزیر ہے۔ قائدین ہوش کے ناخن لیں الگ الگ ہانڈی چڑھانے کی کوشش نہ کریں۔ یہ سب کو لے ڈوبے گی‘ چھوٹا چودھری وزیر بنا ہے تو نواز شریف کو اپنے سابق مہربان میزبان سے جپھا مار کر مل لینا چاہئے۔ مسلم لیگ کا اتحاد پھر ہی ہو گا اور پائیدار ہو گا۔ دل بڑا کرو بڑے میاں جی!

No comments:

Post a Comment