About Me

My photo
Fazal Hussain Awan colomnist Daily NAWAI WAQT awan368@yahoo.com 03334215368

Friday, October 8, 2010

احترام سادات

6-10-10 (not published)

قاہرہ کے ایک بڑے گھر میں سید ابوالخیر اپنے میزبان کی اضطراری و اضطرابی کیفیت سے خاصے حیران اور پریشان تھے۔ میزبان کا تعلق شہر کے امرا سے تھا۔ وہ تھوڑے تھوڑے وقفے سے گھر سے باہر جاتے اور ہر مرتبہ ان کے ساتھ ایک نیا مفلوک الحال شخص ہوتا۔ وہ گھر میں لا کر اس کی خاطر تواضح کرتے۔ نئے کپڑے پہنوا کر تحفے تحائف دیتے اور کسی نئے غم کے مارے کی تلاش میں نکل جاتے۔ سید ابوالخیر نے ملازموں کے سامنے یہ معمہ رکھا تو انہوں نے بتایا کہ ان کا آقا ایک دن اپنے کاروباری مرکز پر بیٹھا تھا۔ یوں سمجھئے کہ وہ بہت بڑا سٹور تھا۔ سپر سٹور‘ ایک خاتون نے آکر فریاد کی کہ وہ ایک مجبور سید زادی ہے اس کی مدد کی جائے۔ سٹور مالک بھی سید تھا اس کوئی مدد کرنے سے قبل پوچھا بی بی آپ کے پاس کیا ثبوت ہے سید زادی ہونے کا؟ خاتون نے یہ الفاظ سنے تو خاموشی سے واپس چلی گئی سید زادے کی نظریں‘ سوالی خاتون کے تعاقب میں تھیں۔ وہ سامنے والے سٹور میں داخل ہوئی تھوڑی دیر بعد واپس آئی تو اس کے ہاتھ میں سامان کے بیگ تھے۔ وہ سٹور ایک یہودی کا تھا.... اسی رات سید زادے نے خواب میں دیکھا کہ ایک نورانی صورت والے بزرگ کے اردگرد چند لوگ جمع تھے۔ یہ صاحب بھی اس مختصر مجمع کی طرف چل دئیے۔ پتہ کرنے پر معلوم ہوا کہ حضور سے لوگ ہاتھ ملا رہے ہیں۔ اس نے اپنا نام سید.... بتاتے ہوئے مصافحہ کےلئے ہاتھ بڑھایا تو رسول اللہ نے اپنا ہاتھ پیچھے کھینچتے اور رخ انوردوسری طرف پھیرتے ہوئے فرمایا تمہارے پاس کیا ثبوت ہے کہ تم سید ہو؟ آج ہماری بیٹی تمہارے پاس آئی تم نے کہا کہ تمہارے پاس سید زادی ہونے کا کیا ثبوت ہے؟ اس خواب کے بعد سے سید زادہ بے چین اور بے قرار ہے۔ اس نے سید زادی کی تلاش کی اپنی سی کوشش کر لی وہ تو نہ ملی‘ اب غریبوں کی خدمت کو شعار بنا لیا ہے.... مشرف کے کمالات سے کون واقف نہیں۔ وہ راندہ درگاہ ہیں۔ قاتل ہیں آئین شکن اور خرافات کے رسیا‘ آرٹیکل 6 کے ملزم‘ ایسے ایسے گناہوں میں ملوث کہ دنیاوی سخت سے سخت سزا بھی ان کیلئے ہلکی محسوس ہوتی ہے۔ گو گیلانی صاحب بھی اسی راستے کے مسافر ہیں تاہم ان کا احترام کچھ حلقوں میں ابھی باقی ہے۔ بعض لوگ وزیراعظم گیلانی کا ذکر بھی مشرف کی طرح کرتے ہیں۔ زرداری صاحب کو تو اکثر مشرف کے ہم پلہ قرار دیا جاتا ہے۔ تاہم وہ سادات کی لسٹ سے باہر ہیں۔ ویسے تو ہر انسان کا احترام ضروری ہے۔ سادات کا خصوصی‘ مشرف کو نفرت انگیز اور ناپاک جانوروں کے نام سے تشبیہہ دینے کا سلسلہ جاری ہے۔ کچھ ان کو میر عالم بھی قرار دیتے ہیں۔ گیلانی صاحب کی ناپسندیدہ پالیسیوں کے باعث ان کے مخالفین ان کو پچھلی صدی کا سید قرار دیتے ہیں۔ اگر کسی کے پاس دونوں سید زادوں کے نئے نئے حلقہ سادات میں داخل ہونے کے ثبوت ہیں تو وہ ان کو اپنے پاس رکھیں کسی پر ظاہر اور ثابت کرنے کی ضرورت نہیں۔ جو سید نہ ہونے کے باوجود سید کہلاتا ہے اس کا معاملہ اس کے اللہ اور رسول خدا کے درمیان ہے۔ ہمارے لئے ہر وہ شخص قابل صد تکریم ہے جو خود کو سید کہلاتا ہے۔
کل تک مشرف کے دستر خوان پر چوکڑی جمانے والے مشرف کے گن گانے والے مشرف کے صدقے سے زمین کی پستیوں سے اوج ثریا پر پہنچنے والے بھی ان کو برے برے الفاظ اور القاب سے پکارتے ہیں۔ ان کا نام بڑی نفرت سے لیتے ہیں۔ سادات ہونے کا یہ مطلب نہیں کہ کسی کے سارے گناہ معاف ہو گئے اور وہ ہر جرم سے بری ہو گیا۔ اس کے گناہ اور جرائم اپنی جگہ اس کے مطابق سزا بھی لازم لیکن بطور انسان اور سید احترام اپنی جگہ کم از کم نام لینے اور پکارنے کی حد تک تو ضروری ہے۔

No comments:

Post a Comment