About Me

My photo
Fazal Hussain Awan colomnist Daily NAWAI WAQT awan368@yahoo.com 03334215368

Monday, October 4, 2010

بجلی ۔ بدنیتی



4-10-10


فضل حسین اعوان ـ 
نیت صاف اور کچھ کر گزرنے کا عزم ہو تو معاملات درست ہوتے چلے جاتے ہیں۔ بدنیتی، کام چوری اور ذاتی مفادات کو ترجیح دینے سے معاملات اسی طرح بگڑتے اور مسائل جنم لیتے ہیں جیسے ہمارے ہاں ہر ادارے اور شعبے میں نظر آ رہے ہیں۔ کبھی اہلیت اور قابلیت کا مقابلہ ہوتا تھا آج کل نالائقی اور نااہلیت کا موازنہ ہوتا ہے۔ انفرادی، اجتماعی اور قومی سطح پر بجلی پیدا کرنے والے اداروں اور اس کے کرتا دھرتاوں نے اپنی نااہلی نالائقی اور وژن کی کمی سے مایوسی پھیلائی ہے۔ بجلی ہر پاکستانی کی ضرورت ہے۔ جن علاقوں میں بجلی موجود نہیں بجلی کی کمی اور اس کی قیمتوں میں اضافے سے ان علاقوں کے لوگ بھی متاثر ہوتے ہیں۔ ان کو بلب اور پنکھے کی ضرورت نہیں، وہ باقی دنیا سے کٹ کر نہیں رہ سکتے۔ باقی ضروریات تو پوری کرنا ہیں۔ چینی آٹا چاول دیگر اجناس اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں پر بجلی اور اس کی قیمتوں میں اضافہ اثر انداز ہوتا ہے۔ 
راجہ پرویز اشرف، ان کی وزارت اور متعلقہ شعبوں کی بجلی کی پیداوار پڑھانے کے بجائے اس کی قیمتوں میں اضافے پر توجہ ہے۔ مینجمنٹ نام کی کوئی چیز سرے سے موجود نہیں۔ آج سیلاب کی وجہ سے ملک کے ایک چوتھائی حصے میں بجلی استعمال ہی نہیں ہوتی، بالائی علاقوں میں سردی شروع ہو چکی ہے بعض علاقوں میں برفباری بھی ہو رہی ہے۔ دیگر علاقوں میں سردی کی آمد آمد ہے اے سی صرف وہ لوگ استعمال کر رہے ہیں جنہوں نے جیب سے بل ادا نہیں کرنا ہوتا۔ اس کے باوجود دس بارہ گھنٹے بجلی بند رہے تو اس کو متعلقہ حکام کی بدنیتی، کام چوری پر محمول نہ کیا جائے تو اور کیا کِیا جائے۔ بھارت نے کالا باغ ڈیم کی تعمیر کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کرنے کے لئے اربوں روپے اڑا دیا اور لگا دیا ہے۔ کالا باغ ڈیم کے مخالفین کا سب کو پتہ ہے۔ ان کے پاکستان بارے نظریات اور بھارت سے تعلقات بھی کسی سے ڈھکے چھپے نہیں۔ اب ایجنسیوں کو یہ تحقیقات کرنی چاہیے کہ کالا باغ ڈیم کی تعمیر کو ناقابل عمل قرار دے کر اس کے خاتمے کا اعلان کر دیا گیا۔ اس کے پیچھے کیا محرکات تھے۔ اعلان کرنے اور کرانے والوں کو کیا ملا؟ 
کالا باغ ڈیم کی تعمیر سے یہاں بجلی کی کمی دور ہو سکتی ہے وہیں پانی کی کمی پر قابو پایا جا سکتا ہے اور سیلابوں کی صورت میں وافر اور بپھرے ہوئے پانی کو سمیٹا جا سکتا ہے۔ پانی اور بجلی کے وزیر کی عجب منطق سامنے آئی ہے وہ کہتے ہیں کہ بجلی مجبوراً مہنگی کی۔ بجلی کے نئے پراجیکٹس میں تیل پر انحصار کم کیا جائے گا تو بجلی بھی سستی ہو جائے گی، ساتھ فرما دیا کہ کالا باغ ڈیم کی تعمیر کا راگ الاپنا درست نہیں۔ کالا باغ ڈیم متنازع ہے ۔۔۔ کالا باغ ڈیم کی تعمیر کی مخالفت پر مائل رکھنے کے لئے مخالفوں کو جتنی ادائیگی بھارت کر رہا ہے پاکستانی حکمران اپنا کمشن رکھ کر اس سے ڈبل ادائیگیاں کر دیں تو کالا باغ ڈیم کی تعمیر متنازعہ نہیں رہے گی۔ کالا باغ ڈیم تعمیر ہو گیا تو بجلی کی قیمتوں میں کمی بھی ہو جائےگی تاہم اس کے لئے ذمہ داروں کی نیت کا صاف اور ضمیر کی آواز پر عمل پیرا ہونا بھی لازم ہے۔ 
یہ قوم و ملک کی بدنصیبی ہے کہ اس کی قسمت کے فیصلے ڈنگ ٹپاو، جائیدادیں بناو اور اکاونٹ بڑھاو کی عملی تصویر بنے لوگوں کے ہاتھ میں ہے۔ ورنہ تو ملک میں بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت آج بھی ضرورت سے زیادہ ہے۔ مشرف کہتے ہیں کہ بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت 19 ہزار میگا واٹ ہے۔ کچھ پراجیکٹس نااہلی اور کچھ بدنیتی کی بنیاد پر بند رکھے جاتے ہیں اوپر سے بجلی کی چوری پر نہ صرف قابو نہیں پایا جاتا بلکہ اس میں اضافہ بھی ہوتا رہتا ہے اس کا بوجھ بھی ان لوگوں پر ڈالا جاتا ہے جو بروقت اور اضافہ شدہ بلوں کی ادائیگی کرتے ہیں۔ قوم کی خواہش اور دعا ہے کہ خدایا بدنیتوں کی نیت کو خوش نیتی میں بدل دے یا ان کو نیک نیتوں سے بدل دے۔


No comments:

Post a Comment